ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اہم اجلاس میں سونیا گاندھی پر ہی اعتماد کا دلایا گیا یقین؛ رہیں گی کانگریس کی صدر

کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اہم اجلاس میں سونیا گاندھی پر ہی اعتماد کا دلایا گیا یقین؛ رہیں گی کانگریس کی صدر

Mon, 14 Mar 2022 00:46:26    S.O. News Service

نئی دہلی-13 مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی ) اتر پردیش سمیت 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں زبردست شکست کے بعد اتوار کی شام کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جو قریب 4 گھنٹے تک چلی۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ سونیا گاندھی کانگریس کی صدر رہیں گی۔ پتہ چلارہے کہ میٹنگ میں سونیا گاندھی ، راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اپنے اپنےعہدوں سے استعفی پیش کیاتھا مگر کانگریس ورکنگ کمیٹی نے بالاتفاق رائے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ میٹنگ میں گروپ 23 (یعنی جی 23)  کے رہنما غلام نبی آزاد بھی میٹنگ میں شریک ہوئے۔ اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اے آئی سی سی جنرل سیکرٹری کے سی وینو گوپال نے بتایا کہ اراکین نے سونیا گاندھی پر اپنا پورا بھروسہ دلایا۔

بتایا گیا ہے کہ جی-23 کے لیڈران میں سے غلام نبی آزاد، انند شرما۔اور نکھل واسنیک صرف تین لیڈران ہی شریک ہوئے جبکہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ میٹنگ میں موجود نہیں تھے، اسی طرح سنئیر پارٹی لیڈر اے کے انتھونی کووڈ ہونے کی بنا پر میٹنگ میں شریک نہیں ہوسکے۔ 

ذرائع کی مانیں تو سی ڈبلیوسی نے سونیا گاندھی کی قیادت میں اعتماد کا اظہار کیا۔ ان سے تنظیمی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانے کی درخواست کی گئی ساتھ ساتھ قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوۓ قرارداد بھی منظور کی گئی اور تنظیمی تبدیلیوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کانگریس دوبارہ اہم میٹنگ (چنتن شیویر) کا اہتمام کرے گی جس کی تاریخوں کا جلد فیصلہ کیا جاۓ گا۔ کانگریس کا آخری چنتن شیویر 2013 میں جے پور میں منعقد ہوا تھا۔ میٹنگ کے بعد کے سی وینو گوپال نے بتایا کہ انتخابی نتائج کے حوالے سے کانگریس کی میٹنگ منعقد ہوئی تھی جس میں سینئر رہنماؤں نے نتائج پر سنجیدگی سے غور کیا اور سونیا گاندھی کی قیادت پر اعتماد کا اعادہ کیا گیا۔

سینئر قائدین کے ساتھ پارلیمنٹ کے اجلاس کے اختتام کے بعد چنتن شیویر ہوگی۔ کانگریس کے چیف تر جمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ سبھی لیڈروں نے اپنی رائے دی اور کوتاہیوں پر کھل کر بات کی گئی۔ ورکنگ کمیٹی نے نتائج کو کانگریس کیلئے تشویشناک قرار دیا۔ پارٹی پنجاب میں حکومت مخالف لہر کا سامنا نہیں کرسکی۔ کانگریس نے اسمبلی انتخابات کے ریفرنڈم کو قبول کرلیا۔ پارٹی ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔سونیا گاندھی سے پارٹی کی مضبوطی سے قیادت کرنے کی درخواست کی گئی ۔تنظیم کی کمزوریوں کو دور کرنے کی باتیں کی گئیں۔ کانگریس مستقبل کی پالیسیوں کے حوالے سے ایک غور وفکر کیمپ بلائے گی۔ کانگریس کے ترجمان سرجے والا نے کہا کہ کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اور دگ وجے سنگھ وغیرہ نے بھی اپنی تجاویز دیں۔

غور وفکر کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر رکن نے سونیا گاندھی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ جب تک انتخابات نہیں ہوتے آپ خود پارٹی کی قیادت کر یں۔ ہر انچارج نے اپنی رپورٹ پیش کی کہ پارٹی کیوں ہاری۔ کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس کا ہر لیڈر اور کارکن چاہتا ہے کہ راہل گاندھی پارٹی کی قیادت کر یں۔

اس میٹنگ میں تقریبا 50 لیڈروں نے شرکت کی- یہ ان پانچ ریاستوں میں کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کی تعداد سے زیادہ ہے جہاں حال ہی میں اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں۔ کانگریس لیڈر ملکارجن کھر گے نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی ہماری قیادت کریں گی اور مستقبل کے اقدامات کریں گی۔ ہم سب کو ان کی قیادت پر بھروسہ ہے۔ کانگریس کے گوا انچارج دنیش گنڈوراو نے میٹنگ کے بعد اے این آئی کو بتایا کہ سونیا گاندھی پارٹی صدر کے طور پر کام کرتی رہیں گی۔ میٹنگ میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا۔ ہم نے بات چیت کی ہے کہ چیزوں کو کیسے آگے بڑھایا جاۓ اور مستقبل کے اسمبلی انتخابات کی تیاری کیسے کی جاۓ- قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش، گوا، منی پور، پنجاب اور اتراکھنڈ کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پنجاب میں اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پنجاب میں کانگریس صرف 18 سیٹوں پر رہ گئی ہے۔ وہیں 403 سیٹوں والی یوپی میں اسے صرف دوسیٹیں ملی ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے یہاں انتخابی مہم کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔ لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوالیکن تب بھی وہ جنرل سکریٹری کے عہدہ پر برقرار ہیں گی۔


Share: